دیوالا[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خرابی، ناکامی۔ "سبھی تدبیروں سے ہار گئے تو یہ نئ حکمت نکالی ہے یہ اور کچھ نہیں سیاست کا دیوالہ ہے"      ( ١٩٣٦ء، خاک پروانہ، پریم چند، ٤٠ ) ٢ - خسارہ، حادثہ، مالی نقصان۔ "علی گڑھ کا مطبع دیوالہ نکالا چاہتا ہے، یا نکال چکا"۔      ( ١٩٠٩ء، مکاتیب شبلی، ١، ٢٦٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد ہے اردو میں ١٨٨٦ء کو "انشائے سرور" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خرابی، ناکامی۔ "سبھی تدبیروں سے ہار گئے تو یہ نئ حکمت نکالی ہے یہ اور کچھ نہیں سیاست کا دیوالہ ہے"      ( ١٩٣٦ء، خاک پروانہ، پریم چند، ٤٠ ) ٢ - خسارہ، حادثہ، مالی نقصان۔ "علی گڑھ کا مطبع دیوالہ نکالا چاہتا ہے، یا نکال چکا"۔      ( ١٩٠٩ء، مکاتیب شبلی، ١، ٢٦٥ )

جنس: مذکر